ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / پوری قوم کو متحد ہو کر مشال خان کے قتل کی مذمت کرنی چاہیے:نوازشریف

پوری قوم کو متحد ہو کر مشال خان کے قتل کی مذمت کرنی چاہیے:نوازشریف

Sun, 16 Apr 2017 22:48:15    S.O. News Service

کراچی16اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے صوبے خیبرپختونخوا کے شہرمردان کی عبد الولی خان یونیورسٹی میں توہین مذہب کے الزام پر قتل ہونے والے طالب علم مشال خان کے قتل پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔وزیر اعظم ہاؤس سے سنیچر کو جاری ہونے والے ایک بیان میں انھوں نے کہاکہ مجھے عبد الولی خان یونیورسٹی میں بے حس ہجوم کی جانب سے طالب علم مشال خان کے قتل پربے حد دکھ ہواہے۔وزیرِ اعظم کاکہناتھاکہ پوری قوم کو متحد ہو کر اس جرم کی مذمت کرنی چاہیے۔نواز شریف نے کہا کہ ریاست قانون ہاتھ میں لینے والوں کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گی۔وزیر اعظم نے اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے پولیس کو حکم دیا کہ وہ باقی افراد کو بھی جلد از جلد گرفتار کرے۔ادھر مردان میں عدالتی حکام کا کہنا ہے کہ عبدالولی خان یونیورسٹی میں مشتعل طلبا کے ہاتھوں توہین مذہب کے الزام پر قتل ہونے والے طالب علم مشال خان کی ہلاکت کے مقدمے کے نامزد طلبہ میں سے آٹھ کے خلاف قتل اور انسدادِ دہشت گردی کی دفعات شامل کر لی گئی ہیں۔واضح رہے کہ جمعرات کو مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی کے شعبہئ صحافت کے طالب علم مشال خان کو ایک ہجوم نے تشدد اور گولی مارنے کے بعد انھیں ہوسٹل کی دوسری منزل سے نیچے پھینک دیاتھا۔پولیس پراسیکیوٹر رفیع اللہ خان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ آٹھ طلبہ کو سنیچر کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔ان کا مزید کہنا تھا سنیچر کو چار مزید طلبہ کو گرفتار کیا گیا ہے۔دوسری جانب صوبائی وزیر اطلاعات مشتاق غنی کا کہنا ہے کہ حکومت نے پشاور ہائی کورٹ سے درخواست کی ہے کہ اس واقعے کی تفتیش کے لیے عدالتی تحقیقات کی جائیں۔ہیومن رائیٹس کمیشن آف پاکستان نے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اس واقعے میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔تنظیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ ریاست مشال خان کے زندہ رہنے کے حق کو بچانے میں ناکام ہو گئی ہے جس کی وجہ سے طلبہ میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔شمالی شام میں بسوں کے ایک قافلے کے قریب ہونے والے بم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم از کم 112 ہو گئی ہے۔ سیریئن آبزرویٹری کے مطابق یہ دھماکا حلب کے نواح میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقے راشدین میں کھڑی بسوں کے بالکل قریب کیا گیا، جن پر الفوعہ اور کفریا سے تعلق رکھنے والے شہری سوار تھے۔ ان افراد کو کسی محفوظ مقام پر منتقل کیا جا رہا تھا۔ اس بڑے بم دھماکے میں درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے۔ یہ خود کش بم حملہ ایک مال بردار ٹرک کے ذریعے کیا گیا۔ حملے کے وقت وہاں 75بسیں کھڑی تھیں، جن میں قریب پانچ ہزار افراد سوار تھے۔


Share: